ابنا: امريکا کي جانب سے صہیوني ریاست کي وسيع حمايت اور اسے پيشرفتہ ميزائيلوں سے ليس کيے جانے کے ساتھ ہي واشنگٹن اور تل ابيب کے حکام کے درميان گفتگو اور مشوروں ميں تيزي آ گئي ہے-اسي تناظر ميں صہیوني ریاست کے وزير جنگ نے امريکا کا دورہ کيا ہے-
واضح رہے کہ امريکا عنقريب ہي ميزائيل سسٹم کو پيشرفتہ بنانے کے ليے صہیوني ریاست کو ايک ارب ڈالر کي مالي امداد دينے والا ہے- امريکا ايسے عالم ميں صہیوني ریاست کے وزير جنگ کي ميزباني کر رہا ہے کہ فلسطينيوں کے خلاف جرائم ميں بے پناہ اضافے کے سبب صہیوني ریاست کے خلاف عالمي سطح پر غصہ پايا جاتا ہے-
امريکا کي جانب سے صہیوني ریاست کي حمايت اور مجرم صہیوني حکام کي ميزباني، فلسطين کے مظلوم عوام کے خلاف اپنے جرائم جاري رکھنے کے سلسلے ميں وائٹ ہاؤس کي جانب سے تل ابيب کو ہري جھنڈي دکھائے جانے کے مترادف ہے-
امريکا نے ايسے عالم ميں ميزائيل سسٹم کو وسعت دينے کے ليے صہیوني ریاست کي زبردست امداد کا فيصلہ کيا ہے کہ جب اس نے پہلے ہي مختلف قسم کے ہتھيار اور ميزائيل اس غاصب حکومت کو دے رکھے ہيں اور اس کي فوجي و معاشي امداد کي ہے اور اس طرح اس مجرم اور جنگ پسند حکومت کو ہتھياروں سے ليس کرنے ميں اہم کردار ادا کيا ہے-
واضح رہے کہ امريکا ہر سال تين ارب ڈالر سے زيادہ کي بلاعوض امداد صہیوني ریاست کو ديتا ہے جس کا بڑا حصہ براہ راست فوجي امداد کي صورت ميں ہوتا ہے- البتہ امريکي حلقوں کے مطابق واشنگٹن کي جانب سے تل ابيب کو دي جانے والي امداد اس سے کہيں زيادہ ہے- يہ ايسے عالم ميں ہے کہ امريکا، صہیوني ریاست کو اربوں ڈالر، سہوليات اور کريڈٹ کي صورت ميں بھي عطا کرتا ہے اور اس کا بھي بڑا حصہ اسرائيل کي جانب سے امريکا سے ہتھياروں اور فوجي ساز و سامان کي خريداري ميں خرچ ہوتا ہے-
يہ ساري باتين عملي طور پر اس بات کي موجب بني ہيں کہ عالمي رائے عامہ کي نظر ميں امريکا کو فلسطيني عوام کے قتل عام ميں صہیوني ریاست کا شريک مجرم سمجھا جائے-
ادھر امريکا کي جانب سے صہیوني ریاست کي وسيع حمايت کے خلاف عالمي سطح پر ہونے والے اعتراض کا سلسلہ اب امريکا ميں بھي شروع ہو گيا ہے اور اس ملک کے سماجي کارکنوں اور اہم شخصيات نے اس عمل پر اپنے شديد اعتراض کا مظاہرہ کيا ہے........
/169